📞 مشورہ لیں
🇵🇰 پاکستان – اسلام آباد و راولپنڈی

زمین کی رجسٹری، انتقال اور
قانونی تصدیق کی مکمل رہنمائی

سی ڈی اے اور محکمہ مال کے تحت جائیداد کی خرید، فروخت، رجسٹری، انتقال، تصدیق اور قانونی طریقہ کار کو آسان اردو میں سمجھیں۔

📖 رہنمائی شروع کریں
۶مکمل موضوعات
۲۰+قانونی مراحل
۱۵+سال تجربہ
۱۰۰٪اردو رہنمائی
فہرستِ موضوعات — Table of Contents

کسی بھی موضوع پر کلک کریں — Click any topic to jump directly

📝
Registry & Intiqal — Zameen Transfer
رجسٹری اور انتقالِ زمین
بیع نامہ، سب رجسٹرار، پٹواری، انتقال مسلم
🏢
CDA Transfer Laws & Procedure
سی ڈی اے ٹرانسفر قوانین
این او سی، لیز ڈیڈ، ممبر اسٹیٹ منظوری
💰
Fees & Charges — Stamp Duty
فیس اور چارجز
اسٹامپ ڈیوٹی، ود ہولڈنگ ٹیکس، سی ڈی اے فیس
🔍
Property Verification — Islamabad
جائیداد کی قانونی تصدیق
فرد ملکیت، انکمبرنس، نادرا تصدیق
🏗️
CDA Building Violations & Removal
سی ڈی اے بلڈنگ خلاف ورزیاں
نوٹس، کمپاؤنڈنگ، کمپلیشن سرٹیفکیٹ
🔏
CDA Lease Extension — 33 Years
سی ڈی اے لیز توسیع
این ڈی سی، ممبر منظوری، نئی لیز ڈیڈ
⚖️
Contact Lawyer — Property Law Islamabad
ایڈووکیٹ سے مشورہ کریں
Adv. M Zeshan Bacha — 0300-9888187

رجسٹری اور انتقالِ زمین

زمین کی خرید و فروخت کے بعد رجسٹری اور انتقال دو الگ الگ مراحل ہیں۔ دونوں کو مکمل کرنا قانونی ملکیت کے لیے ضروری ہے۔

⚠️ اہم بات: رجسٹری اور انتقال دو الگ عمل ہیں۔ صرف رجسٹری کافی نہیں – انتقال کے بغیر سرکاری ریکارڈ میں ملکیت تبدیل نہیں ہوتی۔

📝 رجسٹری کا طریقہ کار

۱

بیع نامہ تیار کریں

خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان اسٹامپ پیپر پر بیع نامہ تحریر کریں جس میں جائیداد کی مکمل تفصیل، قیمت اور شرائط درج ہوں۔

۲

اسٹامپ ڈیوٹی ادا کریں

نیشنل بینک یا سرکاری خزانے میں جائیداد کی قیمت کے مطابق اسٹامپ ڈیوٹی جمع کرائیں اور رسید حاصل کریں۔

۳

سب رجسٹرار دفتر جائیں

دونوں فریقین اور دو گواہوں کے ساتھ متعلقہ سب رجسٹرار دفتر جائیں۔ تمام اصل دستاویزات اور قومی شناختی کارڈ ساتھ لے جائیں۔

۴

رجسٹریشن مکمل کریں

سب رجسٹرار کے سامنے دستخط اور انگوٹھے کے نشانات لگائیں۔ رجسٹریشن فیس ادا کریں اور رجسٹرڈ دستاویز وصول کریں۔

🔁 انتقال کا طریقہ کار

۱

پٹواری کو درخواست دیں

رجسٹری مکمل ہونے کے بعد متعلقہ پٹواری کو انتقال کی درخواست جمع کرائیں اور رجسٹریشن دستاویز کی نقل دیں۔

۲

موقع پر تصدیق

پٹواری موقع پر آ کر جائیداد کی تصدیق کرے گا اور فردِ ملکیت میں نئے مالک کا نام درج کرنے کی کارروائی شروع کرے گا۔

۳

گردوارہ انتقال

تحصیلدار کے سامنے فریقین پیش ہوں۔ انتقال کی سماعت ہوگی اور اعتراض کی صورت میں موقع دیا جائے گا۔

۴

انتقال مسلم

اعتراض نہ ہونے کی صورت میں انتقال مسلم ہو جائے گا اور نئے مالک کا نام سرکاری ریکارڈ میں درج ہو جائے گا۔

📋 ضروری دستاویزات: قومی شناختی کارڈ (دونوں فریقین)، رجسٹرڈ بیع نامہ، خسرہ نمبر، فرد ملکیت، اسٹامپ ڈیوٹی رسید، نادرا تصدیق، لیجر نمبر (شہری علاقوں میں)

سی ڈی اے ٹرانسفر قوانین اور طریقہ کار

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے تحت اسلام آباد میں پلاٹ یا فلیٹ کی منتقلی کا ایک مخصوص طریقہ کار ہے جو عام انتقال سے مختلف ہے۔

🏢

سی ڈی اے ٹرانسفر کیا ہے؟

جب سی ڈی اے الاٹ کردہ پلاٹ یا فلیٹ فروخت ہو تو سی ڈی اے کے ریکارڈ میں نئے مالک کا نام درج کرانا ضروری ہے۔ اسے سی ڈی اے ٹرانسفر کہتے ہیں۔

📋

این او سی (NOC) کی ضرورت

ٹرانسفر سے پہلے موجودہ مالک کو سی ڈی اے سے این او سی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس میں تمام واجبات اور لیز قسطیں ادا ہونی چاہئیں۔

🔏

لیز ڈیڈ اور ٹرانسفر ڈیڈ

سی ڈی اے پلاٹوں پر لیز ڈیڈ ہوتی ہے۔ ٹرانسفر کے وقت نئی ٹرانسفر ڈیڈ بنتی ہے جسے سب رجسٹرار سے رجسٹر کرانا ہوتا ہے۔

⚠️

غیر مجاز تعمیر اور ٹرانسفر

غیر مجاز تعمیر والے پلاٹوں کا ٹرانسفر سی ڈی اے روک سکتی ہے۔ خریداری سے پہلے سی ڈی اے سے بلڈنگ پلان منظوری کی تصدیق کریں۔

سی ڈی اے ٹرانسفر کے مراحل بالترتیب

۱

تمام واجبات ادا کریں

سی ڈی اے میں بقایا لیز قسطیں، سروس چارجز اور پانی کے بل مکمل ادا کریں۔ غیر ادا شدہ واجبات کی صورت میں ٹرانسفر نہیں ہوگا۔

۲

این او سی کے لیے درخواست

سی ڈی اے ہیڈ کوارٹر (جی-۷/۴، اسلام آباد) میں این او سی فارم جمع کریں۔ موجودہ مالک کا شناختی کارڈ، الاٹمنٹ لیٹر، اور قسطوں کی رسیدیں درکار ہوں گی۔

۳

این او سی جاری ہونے کا انتظار

سی ڈی اے عموماً ۱۵ سے ۳۰ کاروباری دنوں میں این او سی جاری کرتی ہے۔ تاخیر کی صورت میں ایستادگی سے پوچھ گچھ کریں۔

۴

سیل ڈیڈ / بیع نامہ

این او سی ملنے کے بعد اسٹامپ پیپر پر سیل ڈیڈ تیار کریں۔ اسے متعلقہ سب رجسٹرار دفتر میں رجسٹر کرائیں۔

۵

سی ڈی اے میں ٹرانسفر درخواست

رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے ساتھ سی ڈی اے کو ٹرانسفر درخواست دیں۔ نئے خریدار کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ سائز تصاویر جمع کریں۔

۶

نئی لیز ڈیڈ

سی ڈی اے نئے مالک کے نام پر نئی لیز ڈیڈ جاری کرے گی۔ یہ ٹرانسفر کا آخری اور قانونی ثبوت ہے۔

رجسٹری، انتقال اور سی ڈی اے فیس

درج ذیل فیس سرکاری شرحوں پر مبنی ہیں۔ یہ شرحیں وقتاً فوقتاً تبدیل ہو سکتی ہیں۔ تازہ ترین شرح کے لیے متعلقہ دفتر سے تصدیق کریں۔

🏷️ اسٹامپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن فیس (پنجاب / اسلام آباد)

مد شرح نوٹ
اسٹامپ ڈیوٹی (شہری علاقہ)۳٪ (سرکاری قیمت پر)فردِ فروخت کی مجموعی قیمت پر
کیپیٹل ویلیو ٹیکس (CVT)۲٪صرف غیر فائلر کے لیے
ودہولڈنگ ٹیکس (فروخت کنندہ)۱٪ تا ۴٪فائلر / غیر فائلر کے مطابق
ودہولڈنگ ٹیکس (خریدار)۱٪ تا ۲٪جائیداد کی قیمت کے مطابق
رجسٹریشن فیس۱٪سب رجسٹرار کو ادائیگی
فارد کی نقل۵۰ تا ۲۰۰ روپےپٹواری دفتر
انتقال فیس۵۰۰ تا ۲۰۰۰ روپےتحصیل کے مطابق
💡 فائلر اور غیر فائلر: ایف بی آر کے فعال ٹیکس دہندگان (فائلر) کو کم ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ ایف بی آر ویب سائٹ پر اپنا سی این آئی سی داخل کر کے فائلر کا درجہ چیک کریں۔

🏢 سی ڈی اے ٹرانسفر فیس

مد تفصیل تخمینی رقم
این او سی فیسٹرانسفر سے پہلے۵,۰۰۰ تا ۱۵,۰۰۰ روپے
ٹرانسفر فیسسی ڈی اے ریکارڈ میں تبدیلیپلاٹ سائز کے مطابق
لیز ڈیڈ تجدیدنئی لیز ڈیڈ کے اخراجات۵,۰۰۰ تا ۲۵,۰۰۰ روپے
بقایا سروس چارجزواٹر، سیوریج وغیرہواجبات کے مطابق
لیز ایکسٹینشنلیز مدت ختم ہونے پرمتعلقہ دفتر سے معلوم کریں
⚠️ یاد رہے: یہ فیس اندازاً ہے۔ درست رقم کے لیے سی ڈی اے ہیڈ آفس (G-7/4 اسلام آباد) یا کسی تجربہ کار وکیل سے تصدیق کریں۔

جائیداد کی قانونی تصدیق کیسے کریں؟

جائیداد خریدنے سے پہلے مندرجہ ذیل تصدیق لازمی کریں تاکہ آپ دھوکہ دہی، دوہری فروخت یا قانونی مسائل سے محفوظ رہیں۔

🔴 خبردار: پاکستان میں جائیداد کی دوہری فروخت اور جعلی دستاویزات عام مسئلہ ہے۔ رقم ادا کرنے سے پہلے ہر نکتے کی تصدیق کریں۔
📄

فردِ ملکیت کی تصدیق

متعلقہ پٹواری یا تحصیل دفتر سے تازہ ترین فردِ ملکیت حاصل کریں۔ فروخت کنندہ کا نام ریکارڈ میں موجودہ مالک ہونا چاہیے۔ پرانی فرد قابلِ قبول نہیں۔

🏛️

سی ڈی اے ریکارڈ کی تصدیق

سی ڈی اے ہیڈ آفس یا آن لائن پورٹل سے الاٹمنٹ کی تصدیق کریں۔ یہ یقینی بنائیں کہ پلاٹ پر کوئی بینک قرض (مورٹگیج) تو نہیں۔

🔍

عدالتی بوجھ کی تصدیق

سب رجسٹرار دفتر سے انکمبرنس سرٹیفکیٹ حاصل کریں۔ اس سے معلوم ہوگا کہ جائیداد پر کوئی مقدمہ، رہن یا دعویٰ تو نہیں۔

🪪

شناخت کی تصدیق

نادرا کی ویب سائٹ یا نادرا ویریفائی ایپ کے ذریعے فروخت کنندہ کے شناختی کارڈ کی تصدیق کریں۔ جعلی شناختی کارڈ بہت عام مسئلہ ہے۔

🗺️

موقع کا معائنہ

جائیداد کا خود معائنہ کریں اور پٹواری کے ساتھ موقع پر حدود اربعہ (چاروں اطراف کی حدود) کی تصدیق کریں۔ قبضہ اور ریکارڈ میں فرق چیک کریں۔

⚖️

قانونی ماہر سے مشورہ

کوئی بھی رقم ادا کرنے سے پہلے کسی تجربہ کار پراپرٹی وکیل سے مکمل دستاویزات چیک کروائیں۔ یہ سرمایہ کاری آپ کو بڑے نقصان سے بچا سکتی ہے۔

📋 تصدیقی چیک لسٹ

نمبرتصدیقکہاں سے؟
۱فردِ ملکیت (تازہ)پٹواری / تحصیل دفتر
۲سی ڈی اے الاٹمنٹ تصدیقسی ڈی اے ہیڈ آفس / آن لائن
۳انکمبرنس سرٹیفکیٹسب رجسٹرار دفتر
۴شناختی کارڈ تصدیقنادرا ویریفائی
۵بینک رہن کی عدم موجودگیسی ڈی اے / بینک
۶تعمیری منظوری (بلڈنگ پلان)سی ڈی اے بلڈنگ کنٹرول
۷ٹیکس واجباتایف بی آر / لوکل گورنمنٹ
۸وکیل کی جانچتجربہ کار پراپرٹی وکیل

سی ڈی اے بلڈنگ خلاف ورزیاں — ہٹانے کا طریقہ، تعمیر مکمل کرنے کا طریقہ اور قانونی حقوق

CDA building violations islamabad | illegal construction CDA | CDA building bylaws | unauthorized construction islamabad | CDA enforcement directorate | building completion certificate CDA

⚠️ قانونی انتباہ: اسلام آباد میں سی ڈی اے بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز ۲۰۲۰ اور آئی سی ٹی زوننگ ریگولیشنز ۱۹۹۲ کے تحت غیر مجاز تعمیر قابلِ سزا جرم ہے۔ سی ڈی اے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ بغیر پیشگی اجازت کے تعمیر ڈھا سکتی ہے۔ کوئی بھی تعمیر شروع کرنے سے پہلے بلڈنگ پلان منظوری لازمی ہے۔

📌 سی ڈی اے بلڈنگ خلاف ورزی کیا ہوتی ہے؟

🚫

بغیر منظوری تعمیر

سی ڈی اے سے بلڈنگ پلان منظور کروائے بغیر کوئی بھی تعمیر شروع کرنا خلاف ورزی ہے۔ یہ سب سے عام خلاف ورزی ہے اور سی ڈی اے فوری نوٹس جاری کر سکتی ہے۔

📐

منظور شدہ پلان سے تجاوز

منظور شدہ نقشے سے زیادہ رقبہ، اضافی منزل، یا مختلف ڈیزائن میں تعمیر کرنا خلاف ورزی ہے۔ بیسمنٹ کو رہائشی فلیٹ میں تبدیل کرنا بھی اس میں شامل ہے۔

🔄

استعمال میں غیر قانونی تبدیلی

رہائشی پلاٹ پر تجارتی سرگرمی یا تجارتی پلاٹ پر غیر اجازت یافتہ استعمال خلاف ورزی ہے۔ سی ڈی اے ایسی عمارتیں فوری بند کر سکتی ہے۔

🏗️

تجاوزات اور قبضہ

سرکاری زمین، گرین بیلٹ، فٹ پاتھ یا سڑک پر قبضہ خلاف ورزی ہے۔ سی ڈی اے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ایسی تعمیرات بھاری مشینری سے فوری ڈھا سکتی ہے۔

🔥

فائر سیفٹی خلاف ورزی

آئی سی ٹی فائر پریوینشن ریگولیشنز کے تحت تجارتی عمارتوں میں فائر سیفٹی کا سامان لازمی ہے۔ اس کی عدم موجودگی بھی قابلِ جرمانہ خلاف ورزی ہے۔

🌿

زون تھری میں تعمیر

اسلام آباد کے زون تھری میں کسی بھی قسم کی تعمیر مکمل طور پر ممنوع ہے۔ یہاں تعمیر کی کوئی بھی اجازت نہیں دی جا سکتی اور ایسی تعمیر لازمی ڈھائی جائے گی۔

📋 سی ڈی اے نوٹس کا طریقہ کار

۱

سی ڈی اے سروے اور معائنہ

سی ڈی اے بلڈنگ کنٹرول ڈائریکٹوریٹ باقاعدگی سے سروے کرتی ہے۔ جب خلاف ورزی پکڑی جائے تو پہلے معائنہ رپورٹ تیار کی جاتی ہے۔

۲

۱۵ دن کا نوٹس

سی ڈی اے مالک کو ۱۵ دن کا نوٹس جاری کرتی ہے جس میں خلاف ورزی کی تفصیل اور خود ہٹانے کا موقع دیا جاتا ہے۔ یہ نوٹس نظرانداز کرنا بہت خطرناک ہے۔

۳

شو کاز نوٹس — ۷ دن

۱۵ دن کے بعد شو کاز نوٹس جاری ہوتا ہے جس میں مالک کو ۷ دن میں جواب دینا ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر وکیل کی مدد لینا ضروری ہے۔

۴

سماعت کا موقع

سی ڈی اے مالک کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیتی ہے۔ اگر خلاف ورزی قابلِ معافی ہے تو جرمانہ ادا کر کے باقاعدہ کرایا جا سکتا ہے۔

۵

انفورسمنٹ آپریشن

اگر مالک نے خود نہ ہٹایا اور معافی بھی نہ ملی تو سی ڈی اے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ بھاری مشینری کے ساتھ آ کر خلاف ورزی ڈھا دیتی ہے اور اخراجات مالک سے وصول کیے جاتے ہیں۔

✅ خلاف ورزی باقاعدہ کرانے کا طریقہ (Compounding)

اہم: سی ڈی اے کچھ خلاف ورزیاں "کمپاؤنڈ" یعنی جرمانہ ادا کر کے باقاعدہ کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ لیکن ہر خلاف ورزی کمپاؤنڈ نہیں ہو سکتی — خاص طور پر ڈھائی جانے والی خلاف ورزیاں کمپاؤنڈ نہیں ہوتیں۔
۱

سی ڈی اے بلڈنگ کنٹرول میں درخواست

خلاف ورزی باقاعدہ کرانے کے لیے سی ڈی اے بلڈنگ کنٹرول ڈائریکٹوریٹ (جی ۷/۴ اسلام آباد) میں درخواست دیں۔ اصل بلڈنگ پلان اور خلاف ورزی کی تفصیل ساتھ لائیں۔

۲

جرمانے کا حساب

رہائشی عمارت کے لیے پہلے سال Rs 5,000 فی ماہ اور تجارتی عمارت کے لیے Rs 10,000 فی ماہ جرمانہ ہے جو ہر سال دوگنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ scrutiny fee رہائشی کے لیے Rs 6 فی مربع فٹ اور تجارتی کے لیے Rs 20 فی مربع فٹ ہے۔

۳

نظرثانی شدہ نقشہ جمع کریں

لائسنس یافتہ آرکیٹیکٹ سے نظرثانی شدہ بلڈنگ پلان تیار کرائیں جس میں خلاف ورزی شامل ہو۔ یہ پلان سی ڈی اے کے معیار کے مطابق ہونا چاہیے۔

۴

جرمانہ ادا کریں

مقررہ جرمانہ بینک ڈرافٹ کی صورت میں سی ڈی اے کے نام جمع کرائیں۔ رسید محفوظ رکھیں — یہ آپ کی باقاعدگی کا ثبوت ہے۔

۵

کمپلیشن سرٹیفکیٹ حاصل کریں

تمام جرمانے اور فیس ادا ہونے کے بعد سی ڈی اے بلڈنگ کمپلیشن سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ ٹرانسفر، این ڈی سی اور لیز توسیع کے لیے ضروری ہے۔

🏆 بلڈنگ کمپلیشن سرٹیفکیٹ کیوں ضروری ہے؟

بغیر کمپلیشن سرٹیفکیٹکمپلیشن سرٹیفکیٹ کے ساتھ
سی ڈی اے ٹرانسفر نہیں ہوگاٹرانسفر کی راہ ہموار
این ڈی سی جاری نہیں ہوگااین ڈی سی مل سکتا ہے
لیز توسیع رک سکتی ہےلیز توسیع ممکن
بینک قرض مشکلبینک مورٹگیج آسان
جائیداد کی قیمت کممارکیٹ ویلیو زیادہ

📁 ضروری دستاویزات

نمبردستاویزنوٹ
۱اصل الاٹمنٹ لیٹرسی ڈی اے کا جاری کردہ
۲منظور شدہ بلڈنگ پلاناصل اور نقل
۳قومی شناختی کارڈتصدیق شدہ نقل
۴لائسنس یافتہ آرکیٹیکٹ سرٹیفکیٹسی ڈی اے پینل کا آرکیٹیکٹ
۵اسٹرکچرل انجینئر سرٹیفکیٹلازمی برائے تجارتی عمارت
۶جرمانہ ادائیگی رسیدبینک ڈرافٹ
۷نظرثانی شدہ بلڈنگ پلانخلاف ورزی سمیت
۸فائر سیفٹی سرٹیفکیٹتجارتی عمارت کے لیے لازمی
💡 وکیل کا مشورہ: اگر سی ڈی اے نے نوٹس جاری کر دیا ہے تو گھبرائیں نہیں — فوری طور پر کسی تجربہ کار پراپرٹی وکیل سے رابطہ کریں۔ بہت سی خلاف ورزیاں قانونی طریقے سے باقاعدہ کرائی جا سکتی ہیں اور انفورسمنٹ آپریشن سے بچا جا سکتا ہے۔ وقت پر قانونی مدد لینا لاکھوں روپے کا نقصان بچا سکتا ہے۔

سی ڈی اے تجارتی جائیداد کی لیز میعاد ختم ہونے پر توسیع کا مکمل طریقہ کار

اسلام آباد میں سی ڈی اے کے تحت الاٹ شدہ تجارتی پلاٹوں کی لیز ۳۳ سال کے لیے ہوتی ہے۔ میعاد ختم ہونے پر توسیع لازمی ہے — بغیر توسیع کے نہ ٹرانسفر ہو سکتا ہے اور نہ این ڈی سی مل سکتا ہے۔

⚠️ اہم قانونی نکتہ: سی ڈی اے کے لینڈ ڈسپوزل ریگولیشنز کے تحت لیز ہولڈر پر لازم ہے کہ وہ ہر مدت کے اختتام پر خود سی ڈی اے سے توسیع کی درخواست کرے۔ اگر توسیع نہ کرائی تو سی ڈی اے قانونی طور پر پلاٹ واپس لے کر نیلامی کر سکتی ہے۔

📌 سی ڈی اے لیز کیا ہوتی ہے؟

سی ڈی اے اسلام آباد میں تجارتی پلاٹ مستقل ملکیت کے طور پر نہیں دیتی — بلکہ ۳۳ سال کی لیز پر دیتی ہے۔ یہ لیز مزید دو مدتوں کے لیے قابلِ توسیع ہے یعنی کل ۹۹ سال تک توسیع ہو سکتی ہے۔ اس لیز کے تحت آپ پلاٹ استعمال کر سکتے ہیں، تعمیر کر سکتے ہیں، لیکن قانونی مالک سی ڈی اے ہی رہتی ہے۔ لیز کی مدت ختم ہونے پر اگر توسیع نہ کرائی تو آپ کا قانونی حق ختم ہو جاتا ہے۔

🔗 لیز توسیع اور ٹرانسفر / این ڈی سی کا تعلق

قانونی ضرورت: سی ڈی اے کسی بھی تجارتی پلاٹ کا ٹرانسفر یا این ڈی سی (No Demand Certificate) جاری نہیں کرتی جب تک لیز کی مدت باقی ہو یا توسیع نہ ہو چکی ہو۔ یعنی اگر آپ کا پلاٹ فروخت کرنا ہے تو پہلے لیز توسیع کرانا لازمی ہے۔
📄

این ڈی سی کیا ہے؟

این ڈی سی یعنی No Demand Certificate — یہ سی ڈی اے کا وہ سرٹیفکیٹ ہے جو ثابت کرتا ہے کہ پلاٹ پر کوئی بقایا واجبات نہیں۔ ٹرانسفر کے لیے این ڈی سی لازمی ہے اور این ڈی سی کے لیے لیز توسیع لازمی ہے۔ سی ڈی اے نے این ڈی سی جاری کرنے کی مدت ۴ کاروباری دن مقرر کی ہے۔

🔄

ٹرانسفر کے لیے ترتیب

پہلے لیز توسیع ← پھر تمام واجبات ادا ← پھر این ڈی سی ← پھر ٹرانسفر درخواست ← پھر ممبر اسٹیٹ کی منظوری ← پھر ٹرانسفر لیٹر۔ یہ ترتیب لازمی ہے، کوئی بھی مرحلہ چھوڑا نہیں جا سکتا۔

📋 لیز توسیع کا مرحلہ وار طریقہ کار

۱

لیز کی میعاد چیک کریں

اپنی اصل لیز ڈیڈ دیکھیں اور میعادِ ختم کی تاریخ نوٹ کریں۔ اگر لیز ڈیڈ گم ہو تو سی ڈی اے ایسٹیٹ مینجمنٹ دفتر سے اپنے پلاٹ کا ریکارڈ چیک کرائیں۔ لیز ختم ہونے سے پہلے درخواست دینا بہتر ہے۔

۲

تمام بقایا واجبات ادا کریں

سی ڈی اے میں تمام بقایا لیز قسطیں، سالانہ گراؤنڈ رینٹ، سروس چارجز، پانی کے بل مکمل ادا کریں۔ کسی بھی واجب الادا رقم کی موجودگی میں لیز توسیع کی درخواست قبول نہیں ہوگی۔

۳

لیز توسیع کی درخواست جمع کریں

سی ڈی اے ون ونڈو آپریشن دفتر (جی ۷/۴ اسلام آباد) میں ڈائریکٹر ایسٹیٹ مینجمنٹ کو درخواست دیں۔ تمام اصل دستاویزات اور نقول ساتھ لے جائیں۔ سی ڈی اے نے تجارتی پلاٹوں کی لیز توسیع کی کارروائی ۵ کاروباری دنوں میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

۴

بلڈنگ کنٹرول تصدیق

سی ڈی اے بلڈنگ کنٹرول ڈائریکٹوریٹ آپ کی تعمیر کا معائنہ کرے گی۔ اگر کوئی غیر مجاز تعمیر یا خلاف ورزی ہے تو لیز توسیع رک سکتی ہے۔ اس لیے توسیع سے پہلے تمام تعمیری خلاف ورزیاں دور کریں۔

۵

لیز توسیع چارجز ادا کریں

سی ڈی اے توسیع کے لیے متعین چارجز وصول کرتی ہے۔ یہ چارجز پلاٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو اور سائز کے مطابق ہوتے ہیں۔ رقم بینک ڈرافٹ یا پے آرڈر کی صورت میں سی ڈی اے کے حق میں جمع کرائیں۔

۶

ممبر اسٹیٹ کی منظوری

لیز توسیع کی درخواست اور تمام دستاویزات سی ڈی اے ممبر اسٹیٹ کے سامنے پیش کی جاتی ہیں۔ ممبر اسٹیٹ کیس کا جائزہ لے کر منظوری دیتے ہیں۔ یہ سب سے اہم مرحلہ ہے — اس کے بغیر لیز توسیع ممکن نہیں۔

۷

نئی لیز ڈیڈ کا اجراء

منظوری کے بعد سی ڈی اے نئی لیز ڈیڈ جاری کرتی ہے جو اگلے ۳۳ سال کے لیے ہوتی ہے۔ اس لیز ڈیڈ کو سب رجسٹرار سے رجسٹر کرائیں اور اپنے پاس محفوظ رکھیں۔ یہ آپ کا قانونی ثبوت ہے۔

📁 لیز توسیع کے لیے ضروری دستاویزات

نمبردستاویزنوٹ
۱اصل لیز ڈیڈپہلی لیز ڈیڈ کی نقل بھی ساتھ لائیں
۲اصل الاٹمنٹ لیٹرسی ڈی اے کا جاری کردہ
۳قومی شناختی کارڈ کی نقلتصدیق شدہ
۴واجبات ادائیگی کی رسیدیںتمام بقایا ادا ہونے کا ثبوت
۵پاسپورٹ سائز تصاویرتازہ تصاویر
۶بلڈنگ پلان منظوریسی ڈی اے بلڈنگ کنٹرول سے
۷پے آرڈر / بینک ڈرافٹلیز توسیع چارجز کی ادائیگی
۸درخواست فارمون ونڈو دفتر سے حاصل کریں

⚠️ اہم خبردار کرنے والے نکات

🚫

غیر مجاز تعمیر سب سے بڑی رکاوٹ

اگر پلاٹ پر غیر مجاز تعمیر، ناجائز تقسیم، یا تجارتی استعمال میں تبدیلی ہے تو سی ڈی اے لیز توسیع روک سکتی ہے۔ توسیع سے پہلے تمام خلاف ورزیاں دور کریں۔

میعاد ختم ہونے سے پہلے درخواست دیں

لیز ختم ہونے کے بعد درخواست دینا پیچیدگی پیدا کرتا ہے اور جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔ میعاد ختم ہونے سے کم از کم ۶ ماہ پہلے درخواست دیں۔

💰

چارجز بہت زیادہ ہو سکتے ہیں

سی ڈی اے لیز توسیع پر بھاری چارجز وصول کرتی ہے جو موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق ہوتے ہیں۔ پہلے سے مالی تیاری کریں اور کسی وکیل سے چارجز کا اندازہ لگوائیں۔

💡 وکیل کا مشورہ: لیز توسیع کا عمل پیچیدہ ہے اور ہر کیس کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔ غیر مجاز تعمیر، بقایا واجبات یا دستاویزات میں کمی کی صورت میں کیس رک سکتا ہے۔ کسی تجربہ کار پراپرٹی وکیل سے مشورہ کریں تاکہ وقت اور پیسے کا ضیاع نہ ہو۔
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

ایڈو. ایم ذیشان باچہ

ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

🏛️ پریکٹس کا علاقہ: اسلام آباد اور راولپنڈی

رجسٹری، انتقال، سی ڈی اے ٹرانسفر، جائیداد تنازعات اور پراپرٹی دستاویزات کی قانونی تصدیق کے لیے ابھی رابطہ کریں۔

📞   0300-9888187

پیر تا ہفتہ – صبح ۱۰ بجے سے شام ۶ بجے تک