سی ڈی اے اور محکمہ مال کے تحت جائیداد کی خرید، فروخت، رجسٹری، انتقال، تصدیق اور قانونی طریقہ کار کو آسان اردو میں سمجھیں۔
📖 رہنمائی شروع کریںزمین کی خرید و فروخت کے بعد رجسٹری اور انتقال دو الگ الگ مراحل ہیں۔ دونوں کو مکمل کرنا قانونی ملکیت کے لیے ضروری ہے۔
خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان اسٹامپ پیپر پر بیع نامہ تحریر کریں جس میں جائیداد کی مکمل تفصیل، قیمت اور شرائط درج ہوں۔
نیشنل بینک یا سرکاری خزانے میں جائیداد کی قیمت کے مطابق اسٹامپ ڈیوٹی جمع کرائیں اور رسید حاصل کریں۔
دونوں فریقین اور دو گواہوں کے ساتھ متعلقہ سب رجسٹرار دفتر جائیں۔ تمام اصل دستاویزات اور قومی شناختی کارڈ ساتھ لے جائیں۔
سب رجسٹرار کے سامنے دستخط اور انگوٹھے کے نشانات لگائیں۔ رجسٹریشن فیس ادا کریں اور رجسٹرڈ دستاویز وصول کریں۔
رجسٹری مکمل ہونے کے بعد متعلقہ پٹواری کو انتقال کی درخواست جمع کرائیں اور رجسٹریشن دستاویز کی نقل دیں۔
پٹواری موقع پر آ کر جائیداد کی تصدیق کرے گا اور فردِ ملکیت میں نئے مالک کا نام درج کرنے کی کارروائی شروع کرے گا۔
تحصیلدار کے سامنے فریقین پیش ہوں۔ انتقال کی سماعت ہوگی اور اعتراض کی صورت میں موقع دیا جائے گا۔
اعتراض نہ ہونے کی صورت میں انتقال مسلم ہو جائے گا اور نئے مالک کا نام سرکاری ریکارڈ میں درج ہو جائے گا۔
کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے تحت اسلام آباد میں پلاٹ یا فلیٹ کی منتقلی کا ایک مخصوص طریقہ کار ہے جو عام انتقال سے مختلف ہے۔
جب سی ڈی اے الاٹ کردہ پلاٹ یا فلیٹ فروخت ہو تو سی ڈی اے کے ریکارڈ میں نئے مالک کا نام درج کرانا ضروری ہے۔ اسے سی ڈی اے ٹرانسفر کہتے ہیں۔
ٹرانسفر سے پہلے موجودہ مالک کو سی ڈی اے سے این او سی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس میں تمام واجبات اور لیز قسطیں ادا ہونی چاہئیں۔
سی ڈی اے پلاٹوں پر لیز ڈیڈ ہوتی ہے۔ ٹرانسفر کے وقت نئی ٹرانسفر ڈیڈ بنتی ہے جسے سب رجسٹرار سے رجسٹر کرانا ہوتا ہے۔
غیر مجاز تعمیر والے پلاٹوں کا ٹرانسفر سی ڈی اے روک سکتی ہے۔ خریداری سے پہلے سی ڈی اے سے بلڈنگ پلان منظوری کی تصدیق کریں۔
سی ڈی اے میں بقایا لیز قسطیں، سروس چارجز اور پانی کے بل مکمل ادا کریں۔ غیر ادا شدہ واجبات کی صورت میں ٹرانسفر نہیں ہوگا۔
سی ڈی اے ہیڈ کوارٹر (جی-۷/۴، اسلام آباد) میں این او سی فارم جمع کریں۔ موجودہ مالک کا شناختی کارڈ، الاٹمنٹ لیٹر، اور قسطوں کی رسیدیں درکار ہوں گی۔
سی ڈی اے عموماً ۱۵ سے ۳۰ کاروباری دنوں میں این او سی جاری کرتی ہے۔ تاخیر کی صورت میں ایستادگی سے پوچھ گچھ کریں۔
این او سی ملنے کے بعد اسٹامپ پیپر پر سیل ڈیڈ تیار کریں۔ اسے متعلقہ سب رجسٹرار دفتر میں رجسٹر کرائیں۔
رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے ساتھ سی ڈی اے کو ٹرانسفر درخواست دیں۔ نئے خریدار کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ سائز تصاویر جمع کریں۔
سی ڈی اے نئے مالک کے نام پر نئی لیز ڈیڈ جاری کرے گی۔ یہ ٹرانسفر کا آخری اور قانونی ثبوت ہے۔
درج ذیل فیس سرکاری شرحوں پر مبنی ہیں۔ یہ شرحیں وقتاً فوقتاً تبدیل ہو سکتی ہیں۔ تازہ ترین شرح کے لیے متعلقہ دفتر سے تصدیق کریں۔
| مد | شرح | نوٹ |
|---|---|---|
| اسٹامپ ڈیوٹی (شہری علاقہ) | ۳٪ (سرکاری قیمت پر) | فردِ فروخت کی مجموعی قیمت پر |
| کیپیٹل ویلیو ٹیکس (CVT) | ۲٪ | صرف غیر فائلر کے لیے |
| ودہولڈنگ ٹیکس (فروخت کنندہ) | ۱٪ تا ۴٪ | فائلر / غیر فائلر کے مطابق |
| ودہولڈنگ ٹیکس (خریدار) | ۱٪ تا ۲٪ | جائیداد کی قیمت کے مطابق |
| رجسٹریشن فیس | ۱٪ | سب رجسٹرار کو ادائیگی |
| فارد کی نقل | ۵۰ تا ۲۰۰ روپے | پٹواری دفتر |
| انتقال فیس | ۵۰۰ تا ۲۰۰۰ روپے | تحصیل کے مطابق |
| مد | تفصیل | تخمینی رقم |
|---|---|---|
| این او سی فیس | ٹرانسفر سے پہلے | ۵,۰۰۰ تا ۱۵,۰۰۰ روپے |
| ٹرانسفر فیس | سی ڈی اے ریکارڈ میں تبدیلی | پلاٹ سائز کے مطابق |
| لیز ڈیڈ تجدید | نئی لیز ڈیڈ کے اخراجات | ۵,۰۰۰ تا ۲۵,۰۰۰ روپے |
| بقایا سروس چارجز | واٹر، سیوریج وغیرہ | واجبات کے مطابق |
| لیز ایکسٹینشن | لیز مدت ختم ہونے پر | متعلقہ دفتر سے معلوم کریں |
جائیداد خریدنے سے پہلے مندرجہ ذیل تصدیق لازمی کریں تاکہ آپ دھوکہ دہی، دوہری فروخت یا قانونی مسائل سے محفوظ رہیں۔
متعلقہ پٹواری یا تحصیل دفتر سے تازہ ترین فردِ ملکیت حاصل کریں۔ فروخت کنندہ کا نام ریکارڈ میں موجودہ مالک ہونا چاہیے۔ پرانی فرد قابلِ قبول نہیں۔
سی ڈی اے ہیڈ آفس یا آن لائن پورٹل سے الاٹمنٹ کی تصدیق کریں۔ یہ یقینی بنائیں کہ پلاٹ پر کوئی بینک قرض (مورٹگیج) تو نہیں۔
سب رجسٹرار دفتر سے انکمبرنس سرٹیفکیٹ حاصل کریں۔ اس سے معلوم ہوگا کہ جائیداد پر کوئی مقدمہ، رہن یا دعویٰ تو نہیں۔
نادرا کی ویب سائٹ یا نادرا ویریفائی ایپ کے ذریعے فروخت کنندہ کے شناختی کارڈ کی تصدیق کریں۔ جعلی شناختی کارڈ بہت عام مسئلہ ہے۔
جائیداد کا خود معائنہ کریں اور پٹواری کے ساتھ موقع پر حدود اربعہ (چاروں اطراف کی حدود) کی تصدیق کریں۔ قبضہ اور ریکارڈ میں فرق چیک کریں۔
کوئی بھی رقم ادا کرنے سے پہلے کسی تجربہ کار پراپرٹی وکیل سے مکمل دستاویزات چیک کروائیں۔ یہ سرمایہ کاری آپ کو بڑے نقصان سے بچا سکتی ہے۔
| نمبر | تصدیق | کہاں سے؟ |
|---|---|---|
| ۱ | فردِ ملکیت (تازہ) | پٹواری / تحصیل دفتر |
| ۲ | سی ڈی اے الاٹمنٹ تصدیق | سی ڈی اے ہیڈ آفس / آن لائن |
| ۳ | انکمبرنس سرٹیفکیٹ | سب رجسٹرار دفتر |
| ۴ | شناختی کارڈ تصدیق | نادرا ویریفائی |
| ۵ | بینک رہن کی عدم موجودگی | سی ڈی اے / بینک |
| ۶ | تعمیری منظوری (بلڈنگ پلان) | سی ڈی اے بلڈنگ کنٹرول |
| ۷ | ٹیکس واجبات | ایف بی آر / لوکل گورنمنٹ |
| ۸ | وکیل کی جانچ | تجربہ کار پراپرٹی وکیل |
CDA building violations islamabad | illegal construction CDA | CDA building bylaws | unauthorized construction islamabad | CDA enforcement directorate | building completion certificate CDA
سی ڈی اے سے بلڈنگ پلان منظور کروائے بغیر کوئی بھی تعمیر شروع کرنا خلاف ورزی ہے۔ یہ سب سے عام خلاف ورزی ہے اور سی ڈی اے فوری نوٹس جاری کر سکتی ہے۔
منظور شدہ نقشے سے زیادہ رقبہ، اضافی منزل، یا مختلف ڈیزائن میں تعمیر کرنا خلاف ورزی ہے۔ بیسمنٹ کو رہائشی فلیٹ میں تبدیل کرنا بھی اس میں شامل ہے۔
رہائشی پلاٹ پر تجارتی سرگرمی یا تجارتی پلاٹ پر غیر اجازت یافتہ استعمال خلاف ورزی ہے۔ سی ڈی اے ایسی عمارتیں فوری بند کر سکتی ہے۔
سرکاری زمین، گرین بیلٹ، فٹ پاتھ یا سڑک پر قبضہ خلاف ورزی ہے۔ سی ڈی اے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ایسی تعمیرات بھاری مشینری سے فوری ڈھا سکتی ہے۔
آئی سی ٹی فائر پریوینشن ریگولیشنز کے تحت تجارتی عمارتوں میں فائر سیفٹی کا سامان لازمی ہے۔ اس کی عدم موجودگی بھی قابلِ جرمانہ خلاف ورزی ہے۔
اسلام آباد کے زون تھری میں کسی بھی قسم کی تعمیر مکمل طور پر ممنوع ہے۔ یہاں تعمیر کی کوئی بھی اجازت نہیں دی جا سکتی اور ایسی تعمیر لازمی ڈھائی جائے گی۔
سی ڈی اے بلڈنگ کنٹرول ڈائریکٹوریٹ باقاعدگی سے سروے کرتی ہے۔ جب خلاف ورزی پکڑی جائے تو پہلے معائنہ رپورٹ تیار کی جاتی ہے۔
سی ڈی اے مالک کو ۱۵ دن کا نوٹس جاری کرتی ہے جس میں خلاف ورزی کی تفصیل اور خود ہٹانے کا موقع دیا جاتا ہے۔ یہ نوٹس نظرانداز کرنا بہت خطرناک ہے۔
۱۵ دن کے بعد شو کاز نوٹس جاری ہوتا ہے جس میں مالک کو ۷ دن میں جواب دینا ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر وکیل کی مدد لینا ضروری ہے۔
سی ڈی اے مالک کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیتی ہے۔ اگر خلاف ورزی قابلِ معافی ہے تو جرمانہ ادا کر کے باقاعدہ کرایا جا سکتا ہے۔
اگر مالک نے خود نہ ہٹایا اور معافی بھی نہ ملی تو سی ڈی اے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ بھاری مشینری کے ساتھ آ کر خلاف ورزی ڈھا دیتی ہے اور اخراجات مالک سے وصول کیے جاتے ہیں۔
خلاف ورزی باقاعدہ کرانے کے لیے سی ڈی اے بلڈنگ کنٹرول ڈائریکٹوریٹ (جی ۷/۴ اسلام آباد) میں درخواست دیں۔ اصل بلڈنگ پلان اور خلاف ورزی کی تفصیل ساتھ لائیں۔
رہائشی عمارت کے لیے پہلے سال Rs 5,000 فی ماہ اور تجارتی عمارت کے لیے Rs 10,000 فی ماہ جرمانہ ہے جو ہر سال دوگنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ scrutiny fee رہائشی کے لیے Rs 6 فی مربع فٹ اور تجارتی کے لیے Rs 20 فی مربع فٹ ہے۔
لائسنس یافتہ آرکیٹیکٹ سے نظرثانی شدہ بلڈنگ پلان تیار کرائیں جس میں خلاف ورزی شامل ہو۔ یہ پلان سی ڈی اے کے معیار کے مطابق ہونا چاہیے۔
مقررہ جرمانہ بینک ڈرافٹ کی صورت میں سی ڈی اے کے نام جمع کرائیں۔ رسید محفوظ رکھیں — یہ آپ کی باقاعدگی کا ثبوت ہے۔
تمام جرمانے اور فیس ادا ہونے کے بعد سی ڈی اے بلڈنگ کمپلیشن سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ ٹرانسفر، این ڈی سی اور لیز توسیع کے لیے ضروری ہے۔
| بغیر کمپلیشن سرٹیفکیٹ | کمپلیشن سرٹیفکیٹ کے ساتھ |
|---|---|
| سی ڈی اے ٹرانسفر نہیں ہوگا | ٹرانسفر کی راہ ہموار |
| این ڈی سی جاری نہیں ہوگا | این ڈی سی مل سکتا ہے |
| لیز توسیع رک سکتی ہے | لیز توسیع ممکن |
| بینک قرض مشکل | بینک مورٹگیج آسان |
| جائیداد کی قیمت کم | مارکیٹ ویلیو زیادہ |
| نمبر | دستاویز | نوٹ |
|---|---|---|
| ۱ | اصل الاٹمنٹ لیٹر | سی ڈی اے کا جاری کردہ |
| ۲ | منظور شدہ بلڈنگ پلان | اصل اور نقل |
| ۳ | قومی شناختی کارڈ | تصدیق شدہ نقل |
| ۴ | لائسنس یافتہ آرکیٹیکٹ سرٹیفکیٹ | سی ڈی اے پینل کا آرکیٹیکٹ |
| ۵ | اسٹرکچرل انجینئر سرٹیفکیٹ | لازمی برائے تجارتی عمارت |
| ۶ | جرمانہ ادائیگی رسید | بینک ڈرافٹ |
| ۷ | نظرثانی شدہ بلڈنگ پلان | خلاف ورزی سمیت |
| ۸ | فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ | تجارتی عمارت کے لیے لازمی |
اسلام آباد میں سی ڈی اے کے تحت الاٹ شدہ تجارتی پلاٹوں کی لیز ۳۳ سال کے لیے ہوتی ہے۔ میعاد ختم ہونے پر توسیع لازمی ہے — بغیر توسیع کے نہ ٹرانسفر ہو سکتا ہے اور نہ این ڈی سی مل سکتا ہے۔
سی ڈی اے اسلام آباد میں تجارتی پلاٹ مستقل ملکیت کے طور پر نہیں دیتی — بلکہ ۳۳ سال کی لیز پر دیتی ہے۔ یہ لیز مزید دو مدتوں کے لیے قابلِ توسیع ہے یعنی کل ۹۹ سال تک توسیع ہو سکتی ہے۔ اس لیز کے تحت آپ پلاٹ استعمال کر سکتے ہیں، تعمیر کر سکتے ہیں، لیکن قانونی مالک سی ڈی اے ہی رہتی ہے۔ لیز کی مدت ختم ہونے پر اگر توسیع نہ کرائی تو آپ کا قانونی حق ختم ہو جاتا ہے۔
این ڈی سی یعنی No Demand Certificate — یہ سی ڈی اے کا وہ سرٹیفکیٹ ہے جو ثابت کرتا ہے کہ پلاٹ پر کوئی بقایا واجبات نہیں۔ ٹرانسفر کے لیے این ڈی سی لازمی ہے اور این ڈی سی کے لیے لیز توسیع لازمی ہے۔ سی ڈی اے نے این ڈی سی جاری کرنے کی مدت ۴ کاروباری دن مقرر کی ہے۔
پہلے لیز توسیع ← پھر تمام واجبات ادا ← پھر این ڈی سی ← پھر ٹرانسفر درخواست ← پھر ممبر اسٹیٹ کی منظوری ← پھر ٹرانسفر لیٹر۔ یہ ترتیب لازمی ہے، کوئی بھی مرحلہ چھوڑا نہیں جا سکتا۔
اپنی اصل لیز ڈیڈ دیکھیں اور میعادِ ختم کی تاریخ نوٹ کریں۔ اگر لیز ڈیڈ گم ہو تو سی ڈی اے ایسٹیٹ مینجمنٹ دفتر سے اپنے پلاٹ کا ریکارڈ چیک کرائیں۔ لیز ختم ہونے سے پہلے درخواست دینا بہتر ہے۔
سی ڈی اے میں تمام بقایا لیز قسطیں، سالانہ گراؤنڈ رینٹ، سروس چارجز، پانی کے بل مکمل ادا کریں۔ کسی بھی واجب الادا رقم کی موجودگی میں لیز توسیع کی درخواست قبول نہیں ہوگی۔
سی ڈی اے ون ونڈو آپریشن دفتر (جی ۷/۴ اسلام آباد) میں ڈائریکٹر ایسٹیٹ مینجمنٹ کو درخواست دیں۔ تمام اصل دستاویزات اور نقول ساتھ لے جائیں۔ سی ڈی اے نے تجارتی پلاٹوں کی لیز توسیع کی کارروائی ۵ کاروباری دنوں میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
سی ڈی اے بلڈنگ کنٹرول ڈائریکٹوریٹ آپ کی تعمیر کا معائنہ کرے گی۔ اگر کوئی غیر مجاز تعمیر یا خلاف ورزی ہے تو لیز توسیع رک سکتی ہے۔ اس لیے توسیع سے پہلے تمام تعمیری خلاف ورزیاں دور کریں۔
سی ڈی اے توسیع کے لیے متعین چارجز وصول کرتی ہے۔ یہ چارجز پلاٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو اور سائز کے مطابق ہوتے ہیں۔ رقم بینک ڈرافٹ یا پے آرڈر کی صورت میں سی ڈی اے کے حق میں جمع کرائیں۔
لیز توسیع کی درخواست اور تمام دستاویزات سی ڈی اے ممبر اسٹیٹ کے سامنے پیش کی جاتی ہیں۔ ممبر اسٹیٹ کیس کا جائزہ لے کر منظوری دیتے ہیں۔ یہ سب سے اہم مرحلہ ہے — اس کے بغیر لیز توسیع ممکن نہیں۔
منظوری کے بعد سی ڈی اے نئی لیز ڈیڈ جاری کرتی ہے جو اگلے ۳۳ سال کے لیے ہوتی ہے۔ اس لیز ڈیڈ کو سب رجسٹرار سے رجسٹر کرائیں اور اپنے پاس محفوظ رکھیں۔ یہ آپ کا قانونی ثبوت ہے۔
| نمبر | دستاویز | نوٹ |
|---|---|---|
| ۱ | اصل لیز ڈیڈ | پہلی لیز ڈیڈ کی نقل بھی ساتھ لائیں |
| ۲ | اصل الاٹمنٹ لیٹر | سی ڈی اے کا جاری کردہ |
| ۳ | قومی شناختی کارڈ کی نقل | تصدیق شدہ |
| ۴ | واجبات ادائیگی کی رسیدیں | تمام بقایا ادا ہونے کا ثبوت |
| ۵ | پاسپورٹ سائز تصاویر | تازہ تصاویر |
| ۶ | بلڈنگ پلان منظوری | سی ڈی اے بلڈنگ کنٹرول سے |
| ۷ | پے آرڈر / بینک ڈرافٹ | لیز توسیع چارجز کی ادائیگی |
| ۸ | درخواست فارم | ون ونڈو دفتر سے حاصل کریں |
اگر پلاٹ پر غیر مجاز تعمیر، ناجائز تقسیم، یا تجارتی استعمال میں تبدیلی ہے تو سی ڈی اے لیز توسیع روک سکتی ہے۔ توسیع سے پہلے تمام خلاف ورزیاں دور کریں۔
لیز ختم ہونے کے بعد درخواست دینا پیچیدگی پیدا کرتا ہے اور جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔ میعاد ختم ہونے سے کم از کم ۶ ماہ پہلے درخواست دیں۔
سی ڈی اے لیز توسیع پر بھاری چارجز وصول کرتی ہے جو موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق ہوتے ہیں۔ پہلے سے مالی تیاری کریں اور کسی وکیل سے چارجز کا اندازہ لگوائیں۔
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
🏛️ پریکٹس کا علاقہ: اسلام آباد اور راولپنڈی
رجسٹری، انتقال، سی ڈی اے ٹرانسفر، جائیداد تنازعات اور پراپرٹی دستاویزات کی قانونی تصدیق کے لیے ابھی رابطہ کریں۔
📞 0300-9888187پیر تا ہفتہ – صبح ۱۰ بجے سے شام ۶ بجے تک